نا دیدہ رفاقت میں

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

کُچھ بھی تو نہیں ویسا

جیسا تجھے سوچاتھا

جتنا تجھے چاہا تھا

سوچا تھا تیرے لب پر

کُچھ حرف دُعاؤںکے

کُچھ پھُول وفاؤں کے

مہکیں گی مِری خاطر

کُچھ بھی تو نہیں ویسا

جیسا تجھے سوچا تھا

محسو س یہ ہوتا ہے

دُکھ جھیلے تھے جو اَب تک

بے نام مسافت میں

لکھنے کی محبّت مین

پڑھنے کی ضرورت میں

بے سُور ریاضت تھی

بے فیض عبادت تھی

جو خواب بھی دیکھے تھے

ان جاگتی آنکھوں نے

سب خام خیالی تھی

پھر بھی تجھے پانے کی

دل کسی گوشے میں

خواہش تو بچالی تھی

لیکن تجھے پاکر بھی

اور خود کو گنوا کر بھی

اس حبس کے موسم کی کھڑی سے ہُوا آئی

نہ پھول سے خُوشبوکی کوئی بھی صداآئی

اب نیند ہے آنکھوں میں

ناں دل میں وہ پہلی سی تازہ سخن آرائی

ناں نفط مِرے نکلے

ناں حرف ومعافی کی دانش مِرے کام آئی

نایددہ رفاقت میں

جتنی بھی اذیت تھی

سب میرے ہی نام آئی

کچھ بھی تو نہیں ویسا جیسا تجھے سوچا تھا

جتنا تجھے چاہاتھا

اتنے سّچے کیوں ہوتے ہیں

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

اتنے سّچے کیوں ہوتے ہیں

سّچے اچھّے کیوں ہوتے ہیں

یہی نہیں کوئی طوفان مِری تلاش میں ہے

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

یہی نہیں کوئی طوفان مِری تلاش میں ہے

کہ موسمِ عنمِ جامّاں مری تلاش میں ہے

وصال رُت ہے مگر دِل کو ایسا لگتا ہے

ستارئہ شب ہجراں مِری تلاش میں ہے

میں فیصلے کی گھڑی سے گزر چکی ہُوں مگر

کسی کا دیدئہ حیراں مِری تلاش میں ہے

یہ بے یقین سی آسودگی بتاتی ہے

کہ ایک قرےۂ دِیراں مِری تلاش میں ہے

میں تیرِ گی میں محبّت کی اِک کہانی ہوں

موئی چراغ سا عنوان مری تلاش میں ہے

یہ کیسا خواب تھا دھڑکا سا لگ گیا دِل کو

کہ ایک شخص پریشان مِری تلاش میں ہے

تجھ سے اب اور محّبت نہیں کی جاسکتی

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

تجھ سے اب اور محّبت نہیں کی جاسکتی

خُود کو اِتنی بھی اذیت نہیں دی جاسکتی

جانتے ہیں کہ یقین ٹُوٹ رہا ہے دل پر

پھر بھی اب ترک یہ وحشیت نہیں کی جاسکتی

حبس کا شہر ہے اور اِس میں کسی بھی صُورت

سانس لینے کی سُہولت نہیں دی جاسکتی

روشنی کیلئے دروازہ کُھلا رکھنا ہے

شب سے اب کوئی اجازت نہیں لی جاسکتی

عشق نے ہجر کا آزار تودے رکھا ہے

اِس سے بڑھ کو تورعایت نہیں دی جاسکتی

دل تھا کہ خُوش خیال تجھے دیکھ کرہُوا

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

دل تھا کہ خُوش خیال تجھے دیکھ کرہُوا

یہ شہر بے مثال تجھے دیکھ کر ہُوا

اپنے خلاف شہر کے اندھے ہجوم میں

دل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہُوا

طُولِ شبِ فراق تری خیر ہوکہ دل

آمادئہ وصال تجھے دیکھ کر ہُوا

یہ ہم ہی جانتے ہیں جُدائی کے موڑ پر

اِس دل کا جو بھی حال تجھے دیکھ کر ہُوا

آئی نہ تھی کبھی مِرے لفظوں میں روشی

اور مُجھ سے یہ کمال تجھے دیکھ کر ہُوا

بچھڑے تو جیسے ذہن معطّل سا ہوگیا

شہرِ سخن بحال تجھے دیکھ کر ہُوا

پھر لوگ آگئے مِرا ماضی کُر یدنے

پھر مُجھ سے اَک سوال تجھے دیکھ کر ہُوا

ہر جانب ویرانی بھی ہوسکتی ہے

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

ہر جانب ویرانی بھی ہوسکتی ہے

صبح کی رنگت دھائی بھی ہوسکتی ہے

جب کشتی ڈالی تھی کس نے سوچا تھا

دریا میں طُغیانی بھی ہوسکتی ہے

نئے سفر کے نئے عذاب اور نئے گُلاب

صُورت حال پرانی بھی ہوسکتی ہے

ہر پَل جو دِل کو دَہلائے رکھتی ہے

کُچھ بھی نہیں حیرانی بھی ہوسکتی ہے

سفر ارادہ کر تو لیا پر رستوں میں

رات کوئی طوفانی بھی ہوسکتی ہے

اُس کو میرے نام سے نسبت ہے لیکن

بات یہ آنی جانی بھی ہو سکتی ہے

چُپ نہ رہتے بیان ہوجاتے

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

چُپ نہ رہتے بیان ہوجاتے

تجھ سے گر بدگُمان ہوجاتے

ضبظِ عنم نے بچالیا ورنہ

ہم کوئی داستان ہوجاتے

تُونے دیکھا نہیں پلٹ کے ہمیں

ورنہ ہم مہربان ہوجاتے

تیرے قصّے میں ہم بھلا خُود سے

کس لیے بدگُمان ہوجاتے

تیرے دل کی زمین ہی نہ مِلی

ورنہ ہم آسمان ہوجاتے

انحراف

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

بہت تاخیر سے لیکن

کُھلا یہ بھید خُود پر بھی

کہ میں اب تک

مّحبت جان کر جس

جذبۂ دیرئینہ کو اپنے لہُو سے سینچتی آئی

وہ جس کی ساعتِ صد مہر باں ہی زندگی کی شرط ٹھہری تھی

فقط اک شائبہ ہی تھا مّحبت کا

ےُو نہی عادت تھی ہر رستے پہ اُس کے ساتھ چلنے کی

وگر نہ ترک خواہش پر

یہ دل تھوڑا سا تو دُکھنا

ذراسی آنکھ نَم ہوتی

جس طرح ماں کی دعُا ہوتی ہے

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

جس طرح ماں کی دعُا ہوتی ہے

شاعری ردِ بلا ہوتی ہے

شامِ تنہائی میں

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

اب بھی شاعر رہوں

کِس کی خاطر رہوں

کون ہے جو مرے نفط و معنی کی آنکھوں سے بہتے ہُوئے

آنسوؤں میں چھُپے درد چُنتا پھرے

خواب بُنتا پھرے

کون ہے جو مِرے خُون ہوتے ہُوئے دل کی آواز پر

اپنی آواز کے ہونٹ رکھتا پھرے

کون آنکھیںمِری دیکھ کر یہ کہے

’’کیا ہُوا جانِ جاں

کب سے سوئی نہیں

اس سے پہلے تو تم اِتنا روئی نہیں

اُب بھلا کِس لیے خُوبصورت سی آنکھیں پریشان ہیں

اپنی حالت پہ خُود اتنی حیران ہیں ‘‘

کون بے چین ہو

کون بے تاب ہو

موسمِ ہجر ک شامِ تنہائی میں

آبلہ پائی میں

کون ہو ہم سفر ‘ گردہے رہگزر

کوئی رستہ نہیں کوئی راہی نہیں

درپہ دستک کی کوئی گواہی نہیں

دل کے ویران و برباد صفحات پر

جس قدر لفظ لکھے تھے بے کار ہیں

ایک لمبی جُدائی کے آثار ہیں

سوچتی ہوں کہ اَب

ان خیالوں سے خوابوں سے باہر رہوں

کیون میں شاعر رہوں

کِس کی خاطر رہوں