خواہش کے اظہار سے ڈرنا سِیکھ لیا ہے

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

خواہش کے اظہار سے ڈرنا سِیکھ لیا ہے

دِل نے کیوں سمجھوتہ کرنا سِیکھ لیا ہے

یہ میری عمر مرے ماہ وسال دے اُس کو

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

یہ میری عمر مرے ماہ وسال دے اُس کو

مِرے خدا مِرے دُکھ سے نکال دے اُس کو

وہ چُپ کھڑا ہے کئی دن سے تیری خاطر تو

کواڑکھول دے اذنِ سوال دے اُس کو

عذاب بد نظری کا جِسے شعور نہ ہو

یہ میری آنکھیں‘ مِرے خّدخال دے اُس کو

یہ دیکھنا شب ہجراں کہ کِس کی دستک ہے

وصال رُت ہے اگر وہ توٹال دے اُس کو

وہ جس کا حرفِ دُعا روشنی ہے میرے لیے

میں بُجھ بھی جاؤں تو مولا اُجال دے اُس کو

پُوچھ لو پُھول سے کیا کرتی ہے

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

پُوچھ لو پُھول سے کیا کرتی ہے

کبھی خوشبو بھی وفا کرتی ہے

خیمئہ دل کے معتدّرکا یہاں

فیصلہ تیز ہَوا کرتی ہے

بے رُخی تیری،عنایت تیری

زخم دیتی ہے، دَوا کرتی ہے

تیری آہٹ مِری تنہائی کا

راستہ روک لیا کرتی ہے

روشنی تیرا حوالہ ٹھہرے

میری ہر سانس دُعا کرتی ہے

میری تنہائی سے خاموشی تری

شعر کہتی ہے، سُنا کرتی ہے

کون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گا

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

کون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گا

اب تو قسمت سے ہی کوئی دریا ہار کرے گا

سارا شہر ہی تاریکی پرےُوں خاموش رہا تو

کون چراغ جلانے کے پیداآثار کرے گا

جب اُس کو کردار تُمھارے سچ کو زد میں آیا

لکھنے والا شہرِ کی کالی، ہر دیوار کرے گا

جانے کون سی دُھن میں تیرے شہر میں آنکلے ہیں

دل تجھ سے ملنے کی خواہش اب سوبار کرے گا

دِل میں تیرا اقیام تھا لیکن اُب یہ کِسے خبر تھی

دُکھ بھی اپنے ہونے پر اتِنا اصرار کرے گا

منفرو ساکوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

منفرو ساکوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے

زندگی ایک نیا طر زِسخن چاہتی ہے

رُوح کے بے سرو سامانی سے باہر آکر

شاعری اپنے لیے ایک بدن چاہتی ہے

ہر طرف کتنے ہی پھُولو ں کی بھاریں ہیں یہاں

پرطبعت دُہی خوشبوےُ وطن چاہتی ہے

سانس لینے کو بس اِک تارُہ ہَوا کا جھونکا

زندگی وہ کہاں سرد دسمن چاہتی ہے

دُور جاکر در و دیوار کی رونق سے کہیں

ایک خاموش سا اُجڑا ہُوا بن چاہتی ہے

اب یہ بات مانی ہے

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

اب یہ بات مانی ہے

وصل رائیگانی ہے

اس کی درد آنکھوں میں

ہجر کی کہانی ہے

جیت جس کسی کی ہو

ہم نے ہار مانی ہے

چوڑیاں بکِھرنے کی

رسم یہ پُرانی ہے

عُمر کے جزیرے پر

غم کی حکمرانی ہے

مِل گیا تو وحثت کی

داستان سناتی ہے

ہجرتوں کے صحرا کی

دل نے خاک چھانی ہے

حیرت

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

نہ گُفتگو کا کمال آہنگ

نہ بات کے بے مثال معنی

نہ خال وخد میں وہ جاذبیت

جو جسم و جاں کو اسیر کرلے

نہ مشرل کوئی عکس خواہش

مگر یہ کیا ہے

میں کس کے خاطر

وفا کے رستوں پہ لکھ رہی ہوں

مسافرت کی نئی کہانی [

مَیں بددُعا تو نہیں دے رہی ہُوں اُس کو مگر

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

مَیں بددُعا تو نہیں دے رہی ہُوں اُس کو مگر

دُعا یہی ہے اُسے مُجھ سا اب کوئی نہ مِلے

ورثہ

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں

ضبطِ کے زرد آنچل میں اپنے

سارے درد چُھپالیتی ہیں

روتے روتے ہنس پڑتی ہیں

ہنستے ہنستے دل ہی دل ہی رولیتی ہیں

خوشی کی خواہش کرتے کرتے

خواب اور خاک میں اَٹ جاتی ہیں

سوحصّوں میں بٹ جاتی ہیں

گھر کے دروازے پر بیٹھی

اُمیدوں کے ریشم بنتے ….ساری عُمر گنوا دیتی ہیں

میں جو گئے دنوں میں

ماں کی خوش فہمی پہ ہنس دیتی تھی

اب خود بھی تو

عُمر کی گرتی دیواروں دے ٹیک لگا ئے

فصل خوشی کی بوتی ہوں

اور خوش فہمی کا ٹ رہی ہوں

جانے کیسی رسم سے یہ بھی

ماں کیوں بیٹےی کو ورثے میں

اپنا مقدّر دے دیتی ہے

بس اپنے ساتھ رہنا چاہتی ہوں

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

بس اپنے ساتھ رہنا چاہتی ہوں

میں اب تجھ سے مُکرنا چاہتی ہوں

میں اپنی عُمر کے سارے اثاثے

نئے ٹھب سے برتنا چاہتی ہوں

یہ دل پھر تیری خواہش کر رہا ہے

مگر میں دُکھ سے بچنا چاہتی ہوں

کوئی حرفِ وفا ناں حرفِ سادہ

میں خاموشی کو سُننا چاہتی ہوں

میں بچپن کے کسِی لمحے میںرُک کر

کوئی جُگنو پکڑنا چاہتی ہوں