کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

اداس ہونے کے دن نہیںابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا »

کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

برف کے پگلھنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

اُس نے ہنس کر دیکھا تو مُسکرادیے ہم بھی

ذات سے نکلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

ہجر کی تمازت سے وصَل کے الاؤ تک

لڑکیوں کے جلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہوگی

بات کے مُکرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

زعم کِتنا کرتے ہو اِک چراغ پر اپنے

اور ہَوا کے چلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

جب یقین کی بانہوں پر شک کے یاؤں پڑجائیں

چوڑیاں بِکھرنے میں دیر کِتنی لگنی ہے

اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے